نئی دہلی، 16 جون(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) وزیر اعظم نریندر مودی نے19 جون کوکل جماعتی میٹنگ بلائی ہے۔پی ایم مودی میٹنگ میں ایک قوم ایک انتخابات پر بات کر سکتے ہیں۔اس کے بعد پی ایم مودی 20 جون کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ممبران پارلیمنٹ سے بات چیت کریں گے۔مودی حکومت کا یہ پہلے سے ہی ایجنڈا رہا ہے،اب اس معاملے پر عمل کرنے کے لئے پی ایم مودی نے یہ میٹنگ بلائی ہے۔اس سے پہلے مرکزی حکومت نے نو منتخب لوک سبھا کے پہلے سیشن سے ایک دن پہلے 16 جون کو کل جماعتی میٹنگ ہوئی حکومت نے اس سیشن میں اہم بل کو منظور کرانے کے لئے اپوزیشن کا تعاون مانگا۔ان بلوں میں تین طلاق بل بھی ہے، جسے مرکزی کابینہ نے گزشتہ بدھ کو منظوری دے دی۔پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی اور کئی وزراء نے یو پی اے کی صدر سونیا گاندھی اور غلام نبی آزاد (کانگریس) سمیت اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کرکے پارلیمنٹ کے ایک ہموار منتقلی آپریشن میں ان کا تعاون مانگا تھا۔کانگریس ہمیشہ سے ایک قوم ایک انتخاب کے خلاف رہی ہے۔گزشتہ سال اگست میں بھی کانگریس نے اس کی سخت مخالفت کی تھی اور اس معاملے میں کانگریس کے سینئر لیڈر ملکاارجن کھڑگے، پی چدمبرم سمیت دیگر رہنماؤں نے لاء کمیشن کے سامنے اختلاف ظاہر کیا تھا۔کانگریس کا کہنا تھا کہ ایک ساتھ الیکشن ہندوستانی اجتماعی روح کے خلاف ہے۔کانگریس نے گزشتہ سال 3 اگست کو لاء کمیشن سے کہا تھا کہ وہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرائے جانے کے خیال کی پرزور مخالفت کرتی ہے کیونکہ یہ ہندوستانی جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے۔کانگریس وفد نے لاء کمیشن کے سربراہ سے ملاقات کی اور پارٹی کے موقف سے ان کو باخبرکیا۔وہیں سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ایک قوم ایک انتخاب کی حمایت کی تھی اور مرکزی حکومت کو چیلنج دیتے ہوئے انتخابات کروانے کے لئے کہا تھا،اب کیونکہ اکھلیش نے بھی یہ فیصلہ گزشتہ سال لیا تھا،اب انتخابات کے نتیجوں میں اکھلیش کی پارٹی کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے تو ہو سکتا ہے کہ ان کا فیصلہ بھی دیا ہو۔